DEPARTMENT NEWS

University of Lahore

4
APRIL
Uniformity and Improvement in Research Methodology courses of Arabic and Islamic Studies

بروز بدھ مورخہ 4 اپریل 2018 کو منعقد ہوا۔ اس سمپوزیم میں وطن عزیز کی مشہور جامعات کے تیس سے زائد نامور اساتذہ اور محققین کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر مشہور سکالر پروفیسر ڈاکٹر ابو سفیان اصلاحی (شعبہ عربی  علی گڑھ یونیورسٹی انڈیا) نے شرکت فرمائی۔

پس منظر:

            ہمارا یہ دور بلاشبہ سیاسی،معاشی،تہذیبی ،تعلیمی اور سماجی چیلنجز کا دور ہے۔ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے علماء و مفکرین اور سیاسی زعماء کو غیر معمولی محنت کرنے کی ضرورت ہے ۔مگر اس سے بھی ضروری یہ ہے کہ اس وقت مخالفین کی طرف سے اسلام پر جو اعتراضات کیے جارہے ہیں ان کا علمی اور تحقیقی سطح پر جواب دیا جائے تاکہ اسلام کا روشن اور پر امن چہرہ دنیا کے سامنے ابھر کر آسکے۔صاف ظاہر ہے یہ کام ہمارے تعلیمی اداروں کا ہے کہ وہ اس عصری چیلنج کو سمجھتے ہوئے ایسے سکالر متعارف کروائیں جو بیک وقت عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں اور قدیم علوم و فنون سے بھی وابستہ ہوں۔

            بدقسمتی سے ہمارا نظام تعلیم قومی بحران کا شکار ہے کیونکہ تعلیمی اداروں سے پڑھ کر سوسائٹی میں آنے والے ذمہ داران بالعموم اس فکری ہم آہنگی سے محروم ہوتے ہیں جو قومی سطح پر ہماری ضرورت ہے ۔اس فکری انتشار اور عملی تساھل کا سبب ہمارے تعلیمی ادارے اور تعلیمی نظام ہے جن میں بیک وقت پانچ نظامہائے تعلیم جاری و ساری ہیں۔قومی سطح پر فکری عدم ہم آہنگی کی دوسری بڑی وجہ تعلیمی نظام کی کمزوری ہے جس کے تحت ’’اعلیٰ تعلیم یافتہ ‘‘کہلانے والے خواتین و حضرات مطلوبہ قابلیت اور استعداد سے محروم ہوتے ہیں علاوہ ازیں اسلامی علوم سے وابستہ حضرات کا ایک المیہ یہ ہے کہ الاماشا ء اللہ ان کی اکثریت مسلکی تقسیم کا شکار ہے ۔ان کی نظر بالعموم عالمی حالات و واقعات اور نئے چیلنجز پر نہیں بلکہ محدود مسلکی اور گروہی مفادات پر مرتکز رہتی ہے ۔مندرجہ بالا تینوں کمزوریاں ہمارا قومی اور ملی المیہ بن چکی ہیں ۔

             صاف ظاہر ہےزندگی کا قافلہ تو کہیں بھی نہیںرکتا اس نے تو چار و ناچار آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ تاریخ انسانی میں بالعموم اور تاریخ اسلام میں بالخصوص ایسے حالات میں کچھ افراد اور ادارے رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے آتے ہیں۔چنانچہ یونیورسٹی آف لاہور کے شعبہ عربی و علوم اسلامیہ نے ان حالات کے پیش نظر قوم کی مثبت راہنمائی کا احساس اجاگر کرتے ہوئے اس قومی سیمینار کا انعقاد کیا۔اس کے پیش نظر ابتدائی طور پر دو مقاصد تھے پہلا یہ کہ پاکستان کی پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں سرگرم عمل شعبہ ہائے عربی و اسلامیات میں ہونے والے تحقیقی کام کا معیار بہتر بنایا جاسکے ثانیا تحقیقی کام Research Methodologyمیں ایک یکسانیت  Formenty ہو تاکہ ایک ملک کی جامعات میں ہونے والے تحقیقی مقالہ جات کا اسلوب تحقیق کسی ایک ضابطے کے تحت مکمل کروایا جاسکے۔

            چنانچہ شعبہ عربی و علوم اسلامیہ نے بجا طور پر قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اس حساس ضرورت کی طرف ماہرین کی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی تو چئیرمین بورڈ آف گورنر محترم اویس رؤف صاحب نے بروقت اور فوری اجازت دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون سے نوازا اور یہ فقید المثال تحقیقی سیمیناز منعقد ہوسکا۔

            ہم نے ابتدا ملک بھر کی جملہ جامعات کو خطوط کے ذریعے اس ضرورت کا احساس دلایا ان میں سے اکثر احباب نے گرمجوشی سے شرکت کا یقین دلایا تاہم مسلسل رابطوں اور مراسلوں کے بعد ۳۰یونیورسٹیوں کی حتمی نمائندگی کا تعین کیا گیا ۔اس ایک روزہ قومی سمپوزیم کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا پہلا اجلاس افتتاحی اور تعارفی نوعیت کا تھا جبکہ دوسرا اور تیسرا اجلاس شرکاء کی قیمتی آراء پر مشتمل اظہار خیال کے لیے وقف رہا چوتھے اور اختتامی اجلاس کے آخر میں شرکاء کرام اور انتظامیہ کو اسناد سے نوازا گیا۔

            پہلے اجلاس کی صدارت معروف ماہر تعلیم اور ریکٹر یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران نے فرمائی جبکہ مہمان خصوصی کی نشست کو میڈم وجیہ رؤف Pro Rector Social Sciencesنے رونق بخشی۔

شرکائے سیمینار کا انتخاب ؛یادرہے کہ یہ سیمینار صرف متعلقہ سکالرز پر مشتمل تھا اس میں عام لوگ شامل نہیں کیے گئے تھے۔

            اس ایک روزہ قومی سیمپوزیم کی یہ خصوصیت بھی ریکارڈ پر لائی جانی ضروری ہے کہ ملک بھر کی جامعات میں جو جوحضرات تحقیق کا مضمون پڑھاتے ہیں۔ جن کی کتب درسا پڑھائی جاتی ہیں ان کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا تھا۔

چنانچہ جامعات اور شعبہ جات کی نمائندگی کرنے والے حضرات کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں ۔

            پاکستان کی قدیم اور نامور مادر علمی جامعہ پنجاب سے محترم ڈاکٹر خالقداد ملک ، محترم ڈاکٹر عبداللہ صالح،محترم ڈاکٹر احسان الرحمٰن غوری اور محترم ڈاکٹر حسن مدنی پر مشتمل چار رکنی وفد نے شرکت کی ۔اس طرح ملک کی دوسری بڑی یونیورسٹی جامعہ کراچی کی نمائندگی محترم ڈاکٹر سہیل شفیق اور محترم ڈاکٹر غضنفر احمد نے کی، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے ڈاکٹر خورشید احمد سعیدی اورادارہ تحقیقات اسلامی سے ڈاکٹر آفتاب احمد ، جی سی یونیورسٹی لاہور سے محترم ڈاکٹر سید سلطان شاہ، ہائی ٹیک یونیورسٹی واہ کینٹ سے محترم ڈاکٹر منظور احمد الازہری ،یونیورسٹی آف سرگودھا سے ڈاکٹر فیروز شاہ کھگہ ، یونیورسٹی آف گجرات سے محترم ڈاکٹر ریاض محمود، اسلامی یونیورسٹی بہاولپور سے ڈاکٹر افتخار احمد ، یونیورسٹی آف بنوں سے ڈاکٹر حسین محمد،ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ سے ڈاکٹرمحمد ارشد،پشاور یونیورسٹی سے محترم ڈاکٹر سلیم خان ،بہاؤالدین یونیورسٹی ملتان سے ڈاکٹر جمیل نکتانی ،گفٹ یونیورسٹی گجرانوالہ سے ڈاکٹر محمد اکرم ورک،یونیورسٹی آف مینجمنٹ لاہور سے ڈاکٹر طاہر مصطفیٰ ،گریژن یونیورسٹی لاہور سے محترم ڈاکٹر سعید احمد سعیدی ،امپیریل یونیورسٹی لاہور سے ڈاکٹر مفتی کریم خان شامل تھے ۔اس کے علاوہ میزبان یونیورسٹی شعبہ اسلامیات کے پروفیسر ڈاکٹر محمدامین،پروفیسر ڈاکٹر محفوظ احمد ، پروفیسر ڈاکٹر نواز حسنی،پروفیسر ڈاکٹرمحمد اشرف،ڈاکٹر عبدالرشیدقادری،ڈاکٹر محمد انس نذر مدنی،ڈاکٹر ظہور اللہ الازہری،ڈاکٹر شہزادہ عمران ایوب،ڈاکٹر شبیر احمد جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عقیل احمد نے نبھائے۔

چئیرمین شعبہ ڈاکٹر علی اکبر الازہری نے افتتاحی کلمات میں یونیورسٹی مینجمنٹ اور شرکاء کا شکریہ ادا کرنے کے بعد کہا کہ یونیورسٹی آف لاہور کا شعبہ اسلامیات اگرچہ چار سال قبل قائم ہوا تھا مگر چئیرمین BOGکی خصوصی دلچسپی سے اسے ۱۲تجربہ کار PhDسکالرز کی سرپرستی حاصل ہے اس لیے ہم آج اس قابل ہوئے ہیںکہ آپ حضرات کی میزبانی کر سکیں۔جس طرح پاکستان ملت اسلامیہ کی عملی سیاسی اور فکری قیادت کر رہا ہے اس طرح پاکستان کے دھڑکتے دل لاہور کی سرزمین سے منسوب یونیورسٹی آف لاہور بھی آج اس اہم ایشو پر تمام اداروں کی قیادت کر رہی ہے ۔ہم سب اسلام کی آفاقی تعلیمات کی تفیہم کے فریضے کو اسی وقت بخیر و خوبی نبھا سکیں گے جب ہم خلوص اور دیانت کے جذبے کے تحت اسلامی تعلیمات کی روح اگلی نسلوں تک منتقل کریں گے اور یہ صرف معیاری تحقیق کے ساتھ ہی ممکن ہے۔مسلم امہ کےجملہ علوم میں تحقیق کا عنصر بنیادی ر ہا ہے جس کے تحت فقہاءمحدثین اور مفسرین کرام نےپوری ذمہ داری اور عرق ریزی سے علمی اور تحقیقی شاہکار کتب مرتب کیں جن کی مثال کسی اور مذہب کی تاریخ میں نہیں ملتی اس لیے ہمیں جدید تقاضوں کو سامنے رکھتے  ہوئے قدیم روایات کو آگے بڑھانا چاہیے ۔اس طرح ہم بجاطور پر انسانیت کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دے سکیں گے۔

            ریکٹر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران نے افتتاحی اجلاس کے صدارتی خطبے میں میزبان ادارے کے شایان شان پر مغز گفتگو کی جس کو تما م فاضل شرکاء نے بہت سراہا ۔ انہوں نے کہا اسلامی علوم کا دائرہ صرف قرآن و حدیث تک محدود نہیں بلکہ تمام علوم ہی اسلامی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلی وحی کے اندر ان تمام عقلی و نقلی اور سائنسی علوم کو حاصل کرنے کا حکم پیغمبرانسانیت نبی آخرالزماں ﷺ  کے ذریعے ہمیں فرمایاتھا ۔مسلمانوں نے ۱۲سو سال تک پوری دنیا میں اسی لیے شان و شوکت سے حکومت کی کہ وہ ان علوم کے ماہر اور طلبگار رہے۔مگر آج مسلمان ممالک کے سربراہوں نے علمی سرپرستی کی بجائے اقتدار پرستی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے۔ہم روایت پرست ہوچکے ہیں ہمارے اندر محنت اور تحقیق کا جذبہ دوسری اقوام کے مقابلے میں کافی کمزور ہے ۔ہم اسی کمزوری کی وجہ سے سیاسی ،معاشی ،انتظامی اور تعلیمی زوال میں دن بہ دن گھرتے جارہے ہیں ۔دوسری نشت کے صدر عالمی شہرت یافتہ محقق پروفیسر ڈاکٹر ابوسفیان اصلاحی نمائندہ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ تھے ۔انہوں نے جدید موضوعات کو موضوع تحقیق کے ساتھ عربی زبان و ادب کی اہمیت پر زور دیا ڈاکٹر محمد امین صاحب اس سیمینار کے کنوینر تھے جنہوں نے نصاب تحقیق تیار کر کے شرکاء کی طرف ارسال کیا تھا شرکاء نے بجا طور پر ان کی اس کاوش کوبہت سراہا اور اس سلسلے کومنطقی انجام تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

            شرکائے سیمینار نے جن بنیادی نکات پر گفتگوکی ان میں سے سر فہرست یہ ہے کہ تحقیق پڑھانے والے اساتذہ اپنے اندر کما حقہ اہلیت پیدا کریں تاکہ ان کی زیر نگرانی پروان چڑھنے والے سکالرز کا معیار بہتر ہوسکے نیز انتخاب موضوع میں جدت اورمعاشرتی  ضرورت کا پہلو نمایوں ہونا چاہیے ۔قرآن و سنت کی زبان چونکہ عربی ہے اس لیے عربی زبان کی تسلی بخش معرفت کے بغیر کوئی شخص بھی اسلامی محقق ہونے کا دعویٰ نہیں کرسکتا ۔

ایک روزہ سیمینار کا ختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ اس سلسلہ کو مزید آگے بڑھا یا جانا چاہیے ،حتمی سفارشات اور منتخب نصاب تحقیق HECکو ارسال کیا جاسکے تاکہ وہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں اس کو ناقدالعمل کرواسکے چنانچہ اس سلسلے میں اگلا قدم اٹھاتے ہوئے شعبے نے ۴رکنی کمیشن قائم کر کے اس کو حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے محترم صدر شعبہ کی سربراہی میں کام کرنے والی اس کمیشن کے کنوینر بھی محترم ڈاکٹر محمد امین ہی ہونگے۔




  • Uniformity  and  Improvement  in Research Methodology  courses of   Arabic  and Islamic Studies
  • Uniformity  and  Improvement  in Research Methodology  courses of   Arabic  and Islamic Studies
  • Uniformity  and  Improvement  in Research Methodology  courses of   Arabic  and Islamic Studies
  • Uniformity  and  Improvement  in Research Methodology  courses of   Arabic  and Islamic Studies
Search Box